اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مجلس وحدت مسلمین کے زیراہتمام لاہور کے معراج ہوٹل میں شہید کرنل شجاع خانزادہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ تعزیتی ریفرنس میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماوُں نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ مبارک علی موسوی کا کہنا تھا کہا کہ اس ملک کا المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے اصل وارثوں اہلسنت اور اہل تشیع کو پاکستان بننے کے مخالف گروہ کے لوگ ہی مار رہے ہیں، کرنل شجاع خانزادہ کی جرات اور بہادری ہماری نسل کے لئے ایک مثال بنے گی، ہم اس اجتماع کے ذریعے حکومت وقت سے مظالبہ کرتے ہیں کہ لاہور کے قذافی سٹڈیم کا نام شجاع خانزادہ کے نام پر رکھا جائے، ہم اس عظیم شہید کی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دینگے، دہشت گردی کے خلاف ہم اپنے خون کے آخری قطرے تک لڑتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کرنل شجاع شہید کے قاتلوں کا مدارس سے گرفتار ہونا اس امر کی غمازی ہے کہ پاکستان میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کو پرموٹ کرنے والے مدارس موجود ہیں، جو ان دہشت گردوں کے سہولت کار اور کمین گاہ ہیں۔
جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل و قائم مقام امیر لیاقت بلوچ نے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم کو یکسو ہو کر لڑنے کی ضرورت ہے، پاکستان طویل مدت سے عالمی استعمار کی سازشوں کی زد میں ہے، ہمیں عالمی سازشوں کا ادراک کرنا ہو گا، اسلام دشمن قوتیں تکفیریت کے ذریعے اسلامی اقدار کو پامال کرنا چاہتی ہیں، مجلس وحدت مسلمین کے قائدین داد تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس عظیم شہید اور شہدائے پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرنے اس پر وقار تقریب کا اہتمام کیا، شہید شجاع خانزادہ کی شہادت دہشت گردی کے خاتمہ کا باعث بنے گی، پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک نہ پہنچایا گیا تو یہ ملک و ملت کے لئے بڑی تباہی کا باعث بنے گا، ہمارے مسائل کا حل اس کے سوا کوئی اور نہیں، میرا ایمان ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے، اور انشااللہ اس جنگ میں پاکستان جیتے گا۔
علامہ راغب نعیمی کا کہنا تھا کہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ شہید دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو جس جرات اور بہادری بے نقاب کر رہے تھے ان کی کی شہادت کی اصل وجہ بنی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جب تک دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور ان کے سیاسی سرپرستوں کے خلاف بے رحمانہ آپریشن نہیں ہوتا اس وقت تک اس عفریت کا خاتمہ ممکن نہیں، جو لوگ آج آپریشن کے حق میں باتیں کر رہے ہیں یہ ان کی مجبوری ہے، دراصل پاکستان میں دہشت گردی کی نرسریاں انہی حضرات کے ہی بدولت آباد ہیں، پاکستان میں دہشت گردی کے شکار اور شہداء کے غم کو محسوس ہم ملت اہلسنت اور اہل تشیع ہی کر سکتے ہیں، کہ ہم نے اپنے ہزاروں پیاروں کی لاشیں دیکھیں، کرنل شجاع خانزادہ کے غم کو ہم ہی محسوس کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام میں اہلسنت اور اہل تشیع نے مرکزی کردار ادا کیا اور انشااللہ اس کی حفاظت کے لئے بھی یہ دونوں بازو مل کر کردار ادا کریں گے۔
تعزیتی ریفرنس سے پیر غلام رسول اویسی، ڈاکٹر امجد چشتی، سید فرحت عباس شاہ، حاجی امیر عباس مرزا، علامہ حسن ہمدانی، سید اسد عباس نقوی سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲